Table of Contents

The teachings of Hazrat Muhammad SAW are very important and still help us today.

Hazrat Muhammad SAW shared important ideas on how to live a good life. When we look at his inspiring sayings, we see how kind and understanding he was. His words have been important for a long time, helping many people find guidance and inspiration.

By following Hazrat Muhammad SAW’s teachings, we can try to be more caring and fair to others. Hazrat Muhammad SAW wisdom helps us know what is true and meaningful in life. Let’s remember the lessons he taught us as we face different challenges in our lives.

حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ الله عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب

، دانائے غیوب مرة عَنِ العيوب صلی اللہ علی علیہ والہ وسلم کا فرمان تقرب نشان ہے

ترجمة یعنی بروز قیامت لوگوں میں میرے قریب تر وہ ہوگا

جس نے دُنیا میں مجھ پر زیادہ درود پاک پڑھے ہونگے ۔

تم اپنے مال کے ذریعے لوگوں کو خوش نہیں کر سکتے

لندا خندہ پیشانی اور حسن خلق کے ذریعے سے انہیں خوش رکھا کرو۔

قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ بندہ اللہ تعالی کو پکارتا ہے تو اللہ تعالی اس پر ناراض ہونے کی وجہ سے منہ موڑ لیتا ہے۔

وہ پھر پکارتا ہے اللہ پھر منہ موڑ لیتا ہے۔ وہ پھر پکارتا ہے تو اللہ تعالٰی اپنے فرشتوں سے کہتا ہے

کہ میرے بندے نے میرے سوا کسی اور کو پکارنے سے انکار کر دیا ہے لندا میں نے اس کی دعا منظور کرلی۔ اپنی کمائی پاک رکھو تمہاری دعا قبول ہوگی۔

بہتر ہے وہ شخص جو دیر میں خفا ہو اور جلد راضی ہو جائے اور بد تر وہ شخص ہے جو جلد غصہ میں آجائے اور دیر سے راضی ہو۔

رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں

الصَّلَاةُ عِمَادُ الدِّينِ یعنی نماز دین کا ستون ہے ۔ نماز دین کی اصل اور بنیاد ہے

:حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں

مَنْ صَمَتَ نَجَا یعنی جو خاموش رہ نجات پا گیا۔

:حبیب پروردگار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں

مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِی یعنی جس نے میری قبر کی زیارت کی ، اس کے لئے میری شفاعت لازم ہو گئی

:حبیب پروردگار صلی اللہتعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا

الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ یعنی دُعا عبادت کا مغز ہے۔

:حبیب پروردگار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں

إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔

:رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا فرمان دلگشا ہے

نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِّنْ عَمَلِهِ یعنی مسلمان کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے ۔

:رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمانِ خوشبودار ہے

.مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہ یعنی جو شخص کسی کو نیکی کا راستہ بتائے گا، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا، جتنا کہ اس نیکی پر عمل کرنے والے کو

فرمانِ مصطفٰے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم : سب سے زیادہ حسرت قیامت کے دن مت کے دن اُس کو ہو گی جسے دُنیا میں علم حاصل کرنے کا موقع ملا مگر اُس نے حاصل نہ کیا

اور اس شخص کو ہو گی جس نے علم حاصل کیا اور دوسروں نے تو اس سے سن کر نفع اٹھایا لیکن اس نے نہ اُٹھایا یعنی خود اس علم پر عمل نہ کیا

:فرمانِ مصطفٰے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں

النَّدَمُ تَوْبَةٌ یعنی شر مند گی توبہ ہے ۔

:رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمانِ رحمت نشان ہے

.صَلُّوا عَلَيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْكُمْ یعنی مجھ پر درود شریف پڑھو، اللہ تعالیٰ تم پر رحمت بھیجے گا

: رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا

.خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ یعنی تم میں بہترین شخص وہ ہے، جس نے قرآن کو سیکھا اور دوسروں کو سکھایا

:رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا فرمانِ مُشکبار ہے

مَنْ صَلَّى عَلَى وَاحِدَةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحُطَّتْ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيَّاتٍ وَرُفِعَتْ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ

یعنی جس نے مجھ پر ایک بار درود پاک پڑھا، اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجے گا اور اس کے دس گناہ معاف کئے جائیں گے اور اس کے دس درجے بلند کئے جائیں گے

:سرکار مدینہ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا

مَن أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ یعنی جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی

.اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا

:حبیب پروردگار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں

الْبَادِئُ بِالسَّلَامِ بَرِيٌّ مِّنَ الكبر یعنی سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے دور ہو جاتا ہے۔

:رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں

الدُّعَاءُ يَرُدُّ الْبَلاء یعنی دعا بلا کو ٹال دیتی ہے۔

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here